ابنا: خبری ذرائع نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کے ترجمان سباستین برابانت کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے خام تیل کی سپلائی بند کۓ جانے کے مقابلے کے لۓ ہمارے پاس تیل اور پیٹرول مصنوعات کے اچھے ذخائر موجود ہیں۔ واضح رہے کہ ایران نے دو دن قبل باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ اس نے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل دینا بند کردیا ہے۔ اس خبر کے پھیلتے ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔ اور ہر بیرل تیل کی قیمت گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران اپنی بلند ترین سطح یعنی ایک سو بیس ڈالر تک پہنچ گئي اور اب یہ پیش گوئی کی جارہی ہے کہ ہر بیرل کی قمیت ایک سو پچاس ڈالر تک پہنچ جاۓ گی۔
اگرچہ یورپی یونین کے دو رکن ممالک کو ایران کی جانب سے خام تیل فروخت کی بندش کو ابھی صرف دو ہی دن گزرے ہیں لیکن ان دو دنوں کے دوران ایرانی تیل خریدنے والے یورپی ممالک نے عجلت پسندی سے کام لیتے ہوۓ اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
حتی ایران کے تیل سے کم وابستگی رکھنے والے ممالک نے بھی ایران کی جانب سے تیل کی فروخت بند کۓ جانے کے اثرات کے مدنظر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ البتہ اس تشویش کی وجہ واضح ہے اور اس کا تعلق دنیا میں توانائی کی سلامتی کو لاحق خطرات سے ہے۔ جاپان سے شائع ہونے والے اخبار یومیوری نے کل اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ جاپان کو امریکہ کی ایران مخالف پابندیوں سے مستثنی قرار دیا جاۓ۔ اس اخبار نے مزید لکھا ہے کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان اس سلسلے میں سمجھوتہ ہوگيا ہے۔
یومیوری کے مطابق ایران کا تیل بند ہونے سے جاپان کے لۓ مشکلات پیدا ہوجائيں گی کیونکہ جاپان اپنی ضروریات کا کم از کم گیارہ فیصد تیل ایران سے درآمد کرتا ہے اور جاپان چاہتا ہے کہ اسے امریکہ کی ایران مخالف یکطرفہ پابندیوں سے مستثنی قرار دیا جاۓ۔
امریکہ کئی مہینوں سے جاپان پر دباؤ ڈال رہا ہےکہ وہ ایران سے تیل کی درآمدات کم کر دے۔ اس وقت یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ یورپی ممالک اپنے اقتصادی اور مالیاتی بحران کے موقع پر خاص طور پر توانائی کے شعبے میں کوئي اور دھچکا برداشت نہیں کر سکیں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے کھوکھلے دعووں کے برخلاف ایران سے تیل خریدنے والے اٹلی ، یونان اور اسپین جیسے اس یونین کے بعض ممالک کہ جو تیل کی اپنی روزانہ کی دس فیصد ضروریات ایران سے پوری کرتے ہیں ایران کی جانب سے اچانک تیل بند کۓ جانے کا دھچکا برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب یورپی یونین نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوۓ اپنے زعم باطل میں ایران کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایران نے پہلے سے ہی انتباہ دے دیا تھا کہ وہ یورپ کی جانب سے اپنے خلاف کۓ جانے والے مخاصمانہ اقدامات کا دندان شکن جواب دے گا۔ بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین ایران کے بارے میں اپنی ماضی کی غلطیوں کو دوہرا رہے ہیں اور جب تک وہ ایران کے بارے میں منطقی اور حقیقت پسندی پر مبنی پالیسی اختیار نہیں کریں گے اور صیہونی لابی کے زیر اثر غلط راستے پر چلتے رہیں گے اس وقت تک اپنی مشکلات میں اضافہ ہی کرتے رہیں گے۔ ایران یورپی یونین کےساتھ اپنے تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا ہے لیکن واضح ہے کہ اس یونین کی جانب سے ایران کے خلاف کۓ جانے والے ہر غیر معقول فیصلے کا جواب دیا جاۓ گا۔........ /169